ولایت اہلِ بیت (ع) کا اسلامی معاشرے میں ثقافتی امن کے قیام اور اس کے تحفظ میں کردار

0

اشاریہ

اس مقالہ میں اہل بیت کی ولایت کے کردار کو اسلامی معاشرتی ثقافت کی حفاظت اور اس کی تشکیل میں اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام اسلام میں پائے جانے والے اخلاقی اور روحانی مفاہیم کی وضاحت کرتے ہیں، اس کے ساتھ ثقافتی تحفظ کے لیے حکمت عملی اور راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ وہ سماجی، اخلاقی اور روحانی ہدایات کے ذریعے اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسلامی شناخت، دینی تعلیم و تربیت کی تزکیہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت، بزرگوں اور بزرگوں کی تکریم، اور دیگر بنیادی عوامل کو فروغ دیتے ہیں تاکہ اسلامی معاشرتی ثقافت کی حفاظت اور ترقی ممکن ہو سکے، اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ اپنی مخصوص ثقافت کے ساتھ قائم ہو سکے۔

کلیدی الفاظ : ولایت،ثقافت ، امن  ،سیکورٹی حفظان صحت ،تزکیہ ،شناخت

تمہید :

اہلِ بیت (ع) کے نقطۂ نظر سے ثقافتی سلامتی (cultural security)اسلام کے ستونوں اور اخلاقی نمونوں میں سے ایک ہے، جو انسانی اقدار اور اخلاقی مفاہیم کے تحفظ اور ترویج میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اہلِ بیت (ع) بطور معصومین اور اسلامی اخلاقی نمونے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ثقافتی سلامتی نہ صرف فکری اور علمی امانت کے تحفظ سے وابستہ ہے بلکہ یہ معاشرے کے افراد کے لیے ایک محفوظ اور فعال ماحول فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ سکون اور اعتماد کے ساتھ  اسلامی ثقافت کوچ اپنا  اور پهیلا سکیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اہلِ بیت (ع) کے نزدیک ثقافتی سلامتی کے فروغ کا مطلب فکری تنوع، سوچ اور عقائد کا احترام ہے۔ وہ مثبت مکالمے اور ثقافتی شراکت پر زور دیتے ہیں اور تعمیری روابط اور ثقافتی تعامل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مقامِ معظم رہبر ی نے اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ: “ثقافت معیشت سے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ ثقافت اس ہوا کی مانند ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ آپ مجبوراً ہوا  میں سانس لیتے ہیں، چاہے آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔ اگر یہ پاکیزہ ہو تو اس کےمثبت  اثرات اور اگر ناپاک ہو تو اس کے دیگر اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔”

اس زاویے سے ثقافتی سلامتی ایک حیاتیاتی ڈھانچے کی حیثیت رکھتی ہے جو اخلاقی اور فعال معاشروں کی تشکیل میں نہ صرف بڑی اہمیت رکھتی ہے بلکہ اہلِ بیت (ع) کی روایات اور بیانات کے مطابق یہ ایک اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ذیل میں ہم ثقافتی سلامتی کی چند خصوصیات کے حوالے سے اہلِ بیت (ع) کی روایات اور سیرت سے مثالیں پیش کریں گے ۔

مفهوم شناسی

شناخت (Identity)

شناخت جزوی حقیقت کہلاتی ہے؛ یعنی جب شناخت  کو تشخص کے ساتھ دیکھا اور معتبر سمجھا جائے تو اسے شناخت کہا جاتا ہے۔ کبھی شناخت کا مطلب خارجی وجود ہوتا ہے اور اس سے مراد تشخیص لیا جاتا ہے۔ شناخت کبھی بالذات  (اندرونی )اور کبھی بالعرض(ظاهری)ہوتی ہے۔ اس کا انگلش میں  ترجمہ   ‘identity’’کیا جاتا ہے۔ [1]

اصطلاحی  معنی کے اعتبار سے اسلامی شناخت وہ اسلامی طرزِ زندگی ہے جو دیگر معاشروں سے امتیاز پیدا کرتی ہے۔
نماز اور دعا کا منظر، مسجد، خدا کے وجود کی ظاہری نشانیوں کا انعکاس، خدا کی حکمت اور عظمت کا اظہار، اسلامی تکریم، اسلامی آداب کا عکس، مہمان نوازی، بزرگوں کی عزت، دینی اخلاق، عوام دوستی، اسلامی قوانین،اللہ کے رنگ میں رنگ جانا، نور کی علامت سازی، رنگ کی علامت سازی، گھڑ سواری، دستکاری کے کارخانے، تیراکی، صحت مند تفریحات، پودوں کا انتخاب اور ان کی کاشت — یہ سب اسلامی شناخت کی مثالیں اور علامتیں ہیں جن پر روایات میں گفتگو کی گئی ہے۔
ان میں سے چند مثالیں ہم ذکر کرتے ہیں۔

۱۔بزرگوں اور ہمسایوں کی تکریم

اسلامی معاشرے میں افراد کی قدر و منزلت ایک دوسرے کے مقابل برابر اور اہمیت کی حامل ہے۔ بزرگوں، ہمسایوں اور بچوں کے بارے میں بہت سی تاکیدات کی گئی ہیں۔

امام زین العابدین (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں:
“تمہارے ہم دین بھائیوں کے حقوق میں سے یہ ہے کہ (تمہاری نظر میں) ان کے بوڑھے مرد تمہارے والد کی مانند ہوں، ان کے جوان تمہارے بھائیوں کی طرح ہوں، ان کی بوڑھی عورتیں تمہاری والدہ کی مانند ہوں اور ان کے بچے تمہارے فرزندوں کی طرح ہوں۔” [2]

قرآنی جنت کی توصیفات میں بھی احترام اور تکریم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ مثال کے طور پر سورۂ واقعہ، آیت 25 میں اللہ تعالیٰ جنت کی توصیف میں فرماتا ہے ۔

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا‌. إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا[3]

وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے، نہ گناہ آلود کلام۔ وہاں صرف سلام، ہی کہیں گے اور سنیں گے۔

۲۔نور اور رنگ کی علامت

تمام رنگوں کے اوپر، الٰہی رنگ کی حیثیت ہے۔ مسلمانوں کی جماعت کی ایک اہم ذمہ داری اس رنگ کو پہچاننا اور اس کی ترویج کرنا ہے۔

صِبْغَةَ اللَّهِ  وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً  وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ‌.[4]

“یہ ہے اللہ کا رنگ، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔”

قرآن کی بہت سی آیات میں، پاکیزہ ذاتِ الٰہی، حقیقت اور سیدھا راستہ نور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کی نمایاں مثال سورۂ نور میں آتی ہے:
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔[5]

امام صادق (ع)  فرمایا:

“خداوند پسند کرتا ہے کہ وہ نعمت جو اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے، ان کی زندگی کے ماحول میں ظاہر ہو۔ … سورج غروب ہونے سے پہلے چراغ روشن کرنا فقر کو دور کرتا ہے اور روزی میں اضافہ کرتا ہے۔”.[6]

اسی لیے اسلامی شناخت  کے اظہارکے لیے پھل دار درختوں کی کاشت  پر زور دیا گیا ہے۔اسی طرح اسلامی روایات میں سبزہ اور سبزہ زار کو دیکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

امام موسیٰ کاظم (ع) نے فرمایا:”تین چیزیں آنکھ کو روشنی بخشتی ہیں: سبزہ کو دیکھنا، بہتے ہوئے پانی کو دیکھنا، اور خوبصورت چہرے کو دیکھنا۔”[7]

پیغمبر اکرم (ص)، امیرالمؤمنین (ع) اور امام صادق (ع) بھی سبزہ کو دیکھنے کو شادابی اور تازگی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ [8]

اس طرح کی توصیف کے ساتھ سبزہ اور سبزہ زار کا  بنانا  اسلامی منظر کے ڈیزائن کی ایک نمایاں جھلک کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

۳۔اہلِ بیت (ع) کا تزکیہ اور تعلیم میں کردار

اہلِ بیت (ع) اسلام میں ایمان اور اخلاق کے نمایاں نمونے کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور افراد کی تزکیہ و تعلیم میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف اہلِ بیت کی اخلاقی تعلیمات روحانی تزکیہ اور نفس کی پاکیزگی کے لیے رہنمائی کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اہلِ بیت (ع) اعلیٰ دینی و اخلاقی اصولوں پر عمل کر کے تقویٰ اور پاکدامنی کی بہترین مثالیں پیش کرتے ہیں، جو انسانی تربیت پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

دوسری طرف، اہلِ بیت (ع) کی نظر میں تعلیم و تربیت ایک تعمیری عمل ہے جس پر  کافی زور دیا گیا ہے۔ وہ دینی اصول، انسانی اقدار اور اخلاقی تعلیمات کی تدریس کے ذریعے افراد کی  مدد  کرتے ہیں تاکہ وہ باکردار، انسان دوست اور تقویٰ اختیار کرنے والے بن سکیں۔ یہ تعلیمات فردی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور اسلامی معاشرے کی تربیت میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

 ایک مقام پر امام علی علیہ السلام علم کو نجات دہندہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں:

كَمَا إِنَّ اَلْعِلْمَ يَهْدِي اَلْمَرْءَ وَ يُنْجِيهِ كَذَلِكَ اَلْجَهْلُ يُضِلُّهُ وَ يُرْدِيهِ‌.[9]

جس طرح علم و دانش انسان کی رہنمائی کرتے ہیں اور اسے نجات بخشتے ہیں، اسی طرح جہالت اور نادانی انسان کو گمراہ کر کے تباہ کر دیتے ہیں۔

یقیناً اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ اسلام میں مطلوب معرفت سمت دار اور ایمان و تربیتِ الٰہی کے ساتھ ہے؛ دوسرے الفاظ میں، اسلام کے نقطۂ نظر سے وہ علم جو حقیقی ایمان، نیک عمل اور فکری، ثقافتی، سماجی وغیرہ تمام میدانوں میں ترقی کا مقدمہ ہو، نہایت قیمتی ہے۔

کیونکہ ایسے علم کے بغیر جہالت کی تاریکی انسانوں کی زندگی کو گھیر لیتی ہے، جس کے نتیجے میں پسماندگی اور گمراہیوں میں ڈوب جانا لازمی ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اور روایت میں امام زین العابدین علیہ السلام نے علم حاصل کرنے اور عالم کے فضل کے بارے میں فرمایا:

اگر لوگ علم حاصل کرنے کے فائدے کو جان لیتے، تو وہ اسے ضرور طلب کرتے، چاہے اس کے لیے دل کا خون بہانا پڑے یا مشکلات کے گرداب میں اترنا پڑے۔خداوند تبارک و تعالیٰ وحی میں فرماتا ہے: “میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بندہ وہ جاہل ہے جو علما کے حق کو ہلکا سمجھے اور ان کی پیروی نہ کرے، اور میرے نزدیک سب سے محبوب بندہ وہ پرہیزگار ہے جو بڑے ثواب کا طالب ہو، علما کے ساتھ رہے، پرہیزگاروں کی پیروی کرے اور حکما کی بات کو قبول کرے۔[10]

امام علی علیہ السلام ایک اور فرمان میں لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو جلدی علم سکھائیں تاکہ وہ زمانے کے شبہات سے محفوظ رہیں۔

اسی طرح نہج البلاغہ کے خط نمبر ۳۱ میں، جو امام علی علیہ السلام نے ۶۰ سال کی عمر میں اپنے فرزند رشید امام حسن مجتبی علیہ السلام کو ارشاد فرمایا، جب وہ اس وقت ۳۰ سال کے تھے، یہ خط فرزندان اور نوجوانانِ امت مسلمہ کی تربیت کے لیے بہترین نمونہ اور سرمشق ہے۔

اس خط میں امام علیہ السلام نہ صرف تربیتی طریقہ کار بیان کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں اور جوانوں کی نفسیات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ حقیقت میں نہج البلاغہ کا خط نمبر ۳۱ اسلامی تعلیم و تربیت کے نظام کے لیے بہترین نقشۂ راہ ہے، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور اس کے منظم و مرتب مضامین کو ایک تربیتی منشور کے طور پر بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔

۴۔ دین پر ایمان اور دین پر عمل

دین باوری  یا ایمان سے مراد وہ عقائد اور اعتقادات ہیں جو ایک فرد یا افراد کا گروہ روحانی موضوعات اور مذہبی عقائد کے بارے میں رکھتے ہیں۔ یہ عقائد اس بات کو شامل ہو سکتے ہیں کہ ایک یا ایک سے زیادہ خدا پر ایمان، مذہبی رسومات، اخلاق اور اقدار، اور زندگی کے بعد کے بارے میں اعتقادات ۔

 افراد اپنے ان عقائد کو دعا، عبادت، مذہبی مراسم اور دینی احکام کی پابندی کے ذریعے عملی جامہ پہناتے ہیں۔

اسلامی دین باوری میں، اسلام کو فرد کا بنیادی دین قرار دیا گیا ہے، جو اسلامی عقائد، قرآنِ کریم کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث  و سنت پر مبنی ہے۔

مزید برآں، اسلام اخلاق اور اخلاقی رویوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور نماز، روزہ، زکات اور حج کو اہم مذہبی فرائض کے طور پر بیان کرتا ہے۔ یہ تمام امور مختلف احادیث میں بھی بیان کیے گئے ہیں۔

“جیسا کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا”

لا یستَکمِلُ عَبدٌ حقیقةَ الایمانِ حَتَّى تَکونَ فیهِ خِصالُ ثَلاثٍ: اَلتَّفقُّهُ فِى الدّینِ و َحُسنُ التَّقدیرِ فِى المَعیشَةِ و َالصَّبرُ عَلَى الرَّزایا؛[11]

کوئی بندہ اپنے ایمان کی حقیقت کو کامل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس میں تین خصلتیں نہ ہوں: دین کی معرفت،  امورزندگی میں اچھا تدبر، اور مصیبتوں و آزمائشوں میں صبر۔
امام علی علیہ السلام نے دین کو پناہ گاہ کے طور پر یاد فرمایا ہے۔

اِجْعَلِ الدِّينَ كَهْفَكَ و َالْعَدْلَ سَيْفَكَ تَنْجُ مِنْ كُلِّ سوءٍ وَ تَظْفَرْ عَلى كُلِّ عَدُوٍّ؛[12]

دین کو اپنی پناہ گاہ اور عدل کو اپنا ہتھیار بنا لو تاکہ ہر برائی سے نجات پاؤ اور ہر دشمن پر غالب آ جاؤ۔

اہلِ بیت (ع) اسلام، یعنی وہ برگزیدہ افراد جو رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریبی نسبت رکھتے ہیں، اور جن میں شیعہ آئمہ علیہم السلام بھی شامل ہیں، دین میں رہنما اور معصوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا کردار اسلامی اصولوں کی ارتقاء اور استحکام میں نہایت  ضروری ہے۔ وہ نہ صرف قرآنِ کریم کے محافظ اور مفسر ہیں بلکہ دینی احکام کی تشریح، ان میں غور و فکر اور ان پر عمل کے بہترین نمونے بھی ہیں۔

اہلِ بیت (ع) کے اخلاقی اصول، عدل، محبت اور انسانیت کی خدمت پر قائم ہیں۔ ان کا یہ علمی نقطۂ نظر اسلامی اعلیٰ اصولوں کے فروغ اور انسانیت کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ اخلاق، فقہ اور قرآن کی تفسیر کے میدانوں میں بھی  رہنمائی کے ذریعے دینی اور اخلاقی اصولوں کے گہرے اور مفصل فہم کو ممکن بناتے ہیں۔

 اسی لیے  امام علی علیہ السلام ایک حدیث میں دین کی بنیادوں  میں سے ایک بنیاد اهل بیت علیہم السلام کو بھی  قرار دیتے ہوئے بیان فرماتے ہیں۔

قَواعِدُ الإسلامِ سَبعَةٌ: فَأوَّلُها العَقلُ و علَيهِ بُنِيَ الصَّبرُ و الثاني: صَونُ العِرضِ و صِدقُ اللَّهجَةِ و الثالِثَةُ: تِلاوَةُ القُرآنِ على جِهَتِهِ و الرابِعَةُ: الحُبُّ في اللّه ِ و البُغضُ في اللّه ِ و الخامِسةُ: حَقُّ آلِ محمّدٍ صلى الله عليه و آله و مَعرِفَةُ وَ لا يَتِهِم و السادِسَةُ: حَقُّ الإخوانِ و المُحاماةُ علَيهِم و السّابِعَةُ: مُجاوَرَةُ الناسِ بالحُسنى[13]

اسلام کی بنیادیں سات ہیں:پہلی:عقل اور صبر، اس عقل پرقائم ہے،دوسری:عزتِ نفس اور سچائی،تیسری:قرآن کی صحیح تلاوت،چوتھی: اللہ کے لیے دوستی اور دشمنی، پانچویں:آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق اور ان کی ولایت کی معرفت چھٹی:بھائیوں کا حق اور ان کی حمایت،ساتویں:لوگوں کے ساتھ اچھا پڑوس اور حسنِ ہمسائیگی۔

لہٰذا، دین دار اور اسلامی معاشرہ وہ ہے جس میں اسلام کی یہ بنیادیں اور احکام عملی طور پر نافذ ہوں۔

۵۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دینِ اسلام کے فروعِ دین کے دس اجزاء میں سے دو ہیں۔ اسی وجہ سے قرآنِ کریم میں تقریباً 30 آیات میں مختلف الفاظ اور تعبیرات کے ساتھ اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ روایات میں بھی اسے مختلف عنوانات سے یاد کیا گیا ہے، جیسے:

۱۔ خدا کی مخلوق میں سب سے بہترین اور بافضیلت عمل”[14] ۲۔ “شیعیانِ علیؑ کی نشان[15]  “۳۔ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ”[16]

آمرینِ بالمعروف اور ناہیانِ عن المنکر کو رستگار و کامران[17]  شمار کیا گیا ہے۔ روایات میں آیا ہے: “جو شخص منکر کو نہ روکے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو کسی زخمی کو راستے میں چھوڑ دے تاکہ وہ مر جائے۔”[18]

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایسی اہمیت اور منزلت ہے کہ اولی الامر کی شناخت کے لیے اسے معیار اور کسوٹی  قرار دیا گیا ہے:
اعرفوا الله بالله و الرسول بالرسالة و اولی الامر بالامر بالمعروف و العدل و الاحسان[19]
خدا کو خدا کے ذریعے پہچانو، رسول کو رسالت کے ذریعے اور اولی الامر کو امر بالمعروف، عدل اور احسان کے ذریعے پہچانو۔

اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ صرف انسانوں کے بارے میں بلکہ حیوانات کے بارے میں بھی ضروری اور اہم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں:
“بنی اسرائیل میں ایک بوڑھا عابد نماز میں مشغول تھا کہ اس کی نظر دو بچوں پر پڑی جو ایک مرغ کے پر نوچ رہے تھے۔ عابد نے انہیں اس کام سے نہ روکا اور اپنی عبادت میں مشغول رہا۔ اسی وقت خدا نے زمین کو حکم دیا کہ میرے بندے کو اپنے اندر دھنسا لو۔”[20]

یہ دونوں فریضے اس طرح ہیں کہ گویا باقی تمام احکام اور قوانینِ دینی کو ترک کر دیا جائے؛ کیونکہ معروف یعنی نیک کام، توحید  اور باقی عقائد کے آثار ہیں اور منکر یعنی برے کام، شرک اور اس کے آثار ہیں۔ اس قدر تاکید اس لیے ہے کہ یہ دونوں فریضے حقیقت میں باقی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے ضامن ہیں اگر یہ معطل ہو جائیں تو تمام احکام اور اصولِ اخلاقی اپنی قدر و قیمت کھو دیں گے۔[21]

امام باقرؑ فرماتے ہیں:
“امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء کا طریقہ اور صالحین کا راستہ ہے۔ انہی کے ذریعے واجباتِ دینی قائم ہوتے ہیں، راستے محفوظ ہوتے ہیں، لوگوں کےلیے خرید و فروخت حلال ہوتی ہے، ظلم و حق تلفی دور ہوتی ہے، زمین آباد ہوتی ہے، دشمنوں سے حق لیا جاتا ہے اور حکومت کا نظام مستحکم ہوتا ہے۔”[22]

البتہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کےلیے اپنی مخصوص شرائط  جن  کا  خیال  رکھنا  ضروری  ہے  تاکہ یہ عمل فایدہ مند  ثابت  ہو سکے اور معاشرے میں فساد نہ پھیلے ۔

۶۔ آئمہ علیہم السلام کا بیماری پیدا کرنے والے عوامل سے پرہیز

آئمہ معصوم علیہم السلام بغیر کسی استثنا کے ہر اُس چیز سے پرہیز کرتے تھے جو بیماری کا سبب بن سکتی تھی۔ وہ اپنے پیروکاروں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ ان عوامل سے دور رہیں۔رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:

معدہ بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز علاج کی اساس ہے۔[23]

یعنی زیادہ کھانے، نقصان دہ چیزوں کے استعمال اور غیر صحت مند عادات سے بیماری جنم لیتی ہے، جبکہ پرہیز اور احتیاط صحت کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہے۔

رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا :

عَلَيْكُمْ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ مَحْسِمَةٌ لِلْعُرُوقِ، وَ مُذْهِبَةٌ لِلْأَشَرِ[24]

تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ یہ رگوں کے اندر کی کثافت کو صاف کرتا ہے اور بدن کی فاسد اور زائد چیزوں کو دور کر دیتا ہے۔

 نیز رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا۔”

لَيْسَ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ مِنْ بَطْنٍ مِلانِ‌.[25]

“خدا کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ پیٹ کا بھرا ہونا۔”

 امام صادقؑ نے فرمایا۔

لَا تَسَمَّنُوا تَسَمُّنَ الْخَنَازِيرِ لِلذَّبْحِ[26]

“اپنے جسم کو اس طرح موٹا نہ کرو جیسے خنزیر کو ذبح کرنے کے لیے  موٹا کیا جاتا ہے۔”

بدن کو زکام اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنا

آئمہ  علیہم السلام کے زمانے میں گھروں میں ذاتی حمام نہیں ہوتے تھے، بلکہ سب لوگ حتیٰ کہ خلیفہ بھی عوامی حماموں کا استعمال کرتے تھے۔ جب حمام سے باہر آتے تو اپنے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتے تاکہ سردی نہ لگے اور بیمار نہ ہوں۔

محمد بن موسی امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی طرح احتیاط کرتے تھے۔

خَرَجًا مَنَ الْحَمَّامِ مُتَعَمِّمِينَ، شِتَاءٌ كَانَ أَوْ صَيْفاً، وَكَانَا يَقُولان: هُوَ أَمَانٌ من الصداع[27]

“جب وہ حمام سے باہر آتے تھے، چاہے گرمیوں میں ہو یا سردیوں میں، وہ اپنے سر اور گردن کو ڈھانپ لیتے تھے اور کہتے تھے: ڈھانپنے سے زکام اور سردرد سے حفاظت ہوتی ہے۔”

امام صادقؑ نے فرمایا:

إِغْسِلُوا أَرْجُلَكُمْ بَعْدَ خُرُوجِكُمْ مِنَ الْحَمَّامِ، فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِالشَّقِيقَةِ، وَإِذَا خَرَجْتَ فَتَعَمَّم [28]۳۰

“حمام سے نکلنے کے بعد اپنے پاؤں دھو لو، کیونکہ یہ عمل سر کے نصف درد کو دور کر دیتا ہے۔ اور جب حمام سے باہر آؤ تو اپنے سر کو کپڑے سے باندھ لو۔ “

آئمہ  علیہم السلام کی یہ ہدایات، جو درجنوں طبی اصولوں کی مثالوں میں سے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آئمہ  علیہم السلام صحت کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اس پر بار بار تاکید فرماتے تھے۔

آئمہ ع کے دیگر طبی رہنمائی نمونے

نمونہ اوّل
صدرِ اسلام میں ایک طبیب (ڈاکٹر) علاج کے لیے مدینہ آیا اور وہاں کافی عرصہ رہا، لیکن کسی نے اس سے رجوع نہ کیا۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو لوگوں نے کہا: “ہم بالکل بیمار نہیں ہوتے، کیونکہ قرآن نے ہمیں اس بارے میں ہدایت دی ہے۔”

كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا‌.[29]

کھاؤ اور پیو لیکن کھانے پینے میں اسراف نہ کرو۔

 ہم اس آیت کی بنیاد پر زیادہ کھانے اور زیادہ پینے سے پرہیز کرتے ہیں اور بیمار نہیں ہوتے۔[30]

نمونہ دوم

ہارون الرشید (پانچواں عباسی خلیفہ) کا ایک خاص معالج تھا جو مسیحی تھا۔ وہ اُس زمانے کے طبی علوم میں ماہر اور مشہور تھا۔ ایک دن اُس کی ملاقات ایک اسلامی دانشمند سے ہوئی اور اُس نے کہا: میں تمہاری آسمانی کتاب میں طب کے بارے میں کچھ نہیں پاتا، حالانکہ مفید علم دو قسم کا ہے: علمِ ادیان اور علمِ ابدان۔اسلامی دانشمند نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے تمام طبی احکام قرآن میں آدھی آیت کے اندر بیان کر دیے ہیں۔

كلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا.”کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو۔”

ہمارے نبی رسولِ خدا نے بھی طب کو اسی حکم میں خلاصہ کر دیا ہے۔

الْمِعْدَةُ بَيْتُ الدّاءِ وَالْحِمْيَةُ رَأْسُ كُلِّ دَواءٍ وَأَعْطِ كُلَّ بَدَنٍ مَا عَوَّدْتَهُ‌.

معدہ بیماری کا گھر ہے اور پرہیز و کم خوری تمام دواؤں کا سردار ہے۔ اور جس چیز کے ساتھ تم نے اپنے بدن کو صحیح عادتوں کا خوگر بنایا ہے، اسے بدن سے محروم نہ کرو”۔مسیحی طبیب نے یہ بات سن کر اسلام کی طب اور صحت کے اصولوں پر گہری توجہ کا اعتراف کیا اور کہا:

مَا تَرَكَ كِتَابُكُمْ وَلَا نَبِيُّكُمْ لِجَالِينُوسَ طِبّاً‌.[31]

تمہاری کتاب (قرآن) اور تمہارے نبی نے جالینوس (مشہور طبیب) کے لیے کوئی طب باقی نہیں چھوڑی۔” یعنی جو کچھ جالینوس نے طب کے بارے میں کہا ہے، اسلام نے اسے زیادہ کامل اور بہتر انداز میں بیان کیا ہے۔

۷- ثقافتی استقلال (cultural independence )

اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک ثقافتی استقلال ایک ایسا موضوع ہے جو اسلام میں نہایت اہمیت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اہل بیت، جو رسولِ خدا ﷺ کا خاندان ہیں، دینی اصولوں اور اخلاقی اقدار پر زور دیتے ہوئے ثقافتی شناخت کے تحفظ اور حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

اہل بیت کے نزدیک ثقافتی استقلال کا مطلب اسلامی تعلیمات، قرآنی اخلاقیات اور سیرتِ نبوی کی حفاظت ہے۔ وہ دینی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دے کر مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ دوسری ثقافتوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے اپنی اسلامی اور اخلاقی شناخت کو محفوظ رکھیں اور ساتھ ہی اختلافات کے احترام کو بھی ملحوظ رکھیں۔

یہ نظریہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی استقلال نہ صرف فردی اور اجتماعی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ ایک گہرا اور معنوی تصور ہے جو اسلام کی اصالت اور دینی اقدار کے تحفظ سے وابستہ ہے۔جیسا کہ امام صادق علیہ السلام اس روایت میں لوگوں کو ثقافتی استقلال کی شاخوں کے تحفظ پر تاکید فرماتے ہیں۔

قالَ أَوْحَى‏اللّه‏ اِلى نَبىٍّ مِنَ الأنبِياءِ: قُلْ لِلْمُؤْمِنينَ لايَلْبَسُوا لِباسَ اَعْدائى، وَ لايَطْعَمُوا مَطاعِمَ اَعْدائى وَ لا يَسْلُكُوا مَسالِكَ اَعْدائى، فَيَكُونُوا اَعْدائى كَماهُمْ اَعْدائى.[32]

“خداوند نے ایک نبی پر وحی نازل فرمائی: مؤمنوں سے کہو کہ وہ میرے دشمنوں کے لباس نہ پہنیں، میرے دشمنوں کا کھانا نہ کھائیں اور میرے دشمنوں کے طریقے پر نہ چلیں۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ میرے دشمن بن جائیں گے، جیسے کہ وہ (دشمنانِ خدا) میرے دشمن ہیں۔”

“اس روایت میں امام نے ثقافتی استقلال کی تین شاخوں کا ذکر کیا ہے جن میں اسلامی معاشرے کے لوگوں کو خدا کے دشمنوں کی مشابہت سے منع فرمایا ہے: (۱) لباس میں، (۲) کھانے پینے میں، اور (۳) طریقہ و روشِ زندگی میں۔”

نتیجہ

 اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ،ولایتِ اہل بیت اسلام میں ایک بنیادی عنصر کے طور پر مسلمانوں کی ثقافتی سلامتی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ کردار درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

1.اخلاقی اقدار کا تحفظ:ولایتِ اہل بیت اسلامی اخلاقی اصولوں پر زور دے کر اسلامی اور انسانی ثقافتی اقدار کے تحفظ اور فروغ کا ذریعہ بنتی ہے۔

2.اسلامی تعلیمات کا فروغ:اہل بیت بطور رہنما، مسلمانوں کی ثقافت میں اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے فروغ کو آسان بناتے ہیں۔

3. اسلامی شناخت کی تقویت:ولایتِ اہل بیت اسلام کی تعلیمات پر زور دے کر مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو مضبوط کرتی ہے اور ثقافتی سلامتی میں اضافہ کرتی ہے۔

4. امر بالمعروف و نہی عن المنکر:اہل بیت عدلِ اجتماعی کے قیام کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے منکر کے مقابلے اور معروف کے قیام پر تاکید کرتے ہیں۔

5. اسلامی فن و ادب کا فروغ:اہل بیت اسلامی فنون اور ادب کی ترغیب دے کر مسلمانوں کی ثقافت اور شناخت کو مزید مالا مال کرتے ہیں۔


[1]  Wikipedia.

[2] ۔ الخصال، ج 2، ص 625

[3]  ۔ سورہ  واقعہ، 25

[4]. سوره بقره، 138

[5]  ۔  سورة نور،۳۵

[6]. وسائل الشیعہ، ج ۵، ص ۷

[7].الخصال، ص ۹۲

[8].مفاتیح الحیاه ، ص112

[9].غرر الحکم و درر الکلم، ج۱،ص۵۳

[10]۔ اصول کافی ،  ج۱, ص۳۵

[11]. تحف العقول، ص324

[12].مستدرک الوسایل ،ج11،ص319،  غررالحكم و دررالکلم، ج۱،ص۱۴۵

[13] ۔  تحف العقول،ص۱۹۶

[14]. غرر الحکم، ج1،ص103

[15].علل الشرایع، ج1،ص 158

[16].وسائل الشیعة، ج11،ص529

[17].  سوره آل عمران، 104 

[18].سوره  آل عمران، 104 

[19].  الکافی، ج1، ص ۲۱۳

[20]. بحار الانوار، ج 97،ص 88

[21].  جامعہ و تاریخ، ص ۲

[22].وسائل الشیعہ، ج،11 ،ص39

[23].تفسیر طنطاوی، ج ۴، ص ۱۴۹ و ،  تفسیرمجمع البیان، ج ۴، ص ۴۱۳

[24]. کنزالعمال، حدیث ۲۳۶۱۰

[25]. عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۳۶

[26]. همان

[27]. بحار الأنوار، ج ۷۶، ص ۷۹

[28]. همان، ص ۷۹

[29]. سوره اعراف، ۳۱

[30]. پیکار اسلام با اسراف، ص ۲۳

[31].مجمع البیان، ج ۴، ص ۴۱۳

[32].علل الشرایع،ج ۲،ص ۱۳۵،من لا یحضره الفقیه ج۱،ص۲۵۲

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *