سوال: اگر جابر بن عبداللہ انصاری نابینا تھے تو وہ اربعین کے موقع پر کربلا کیسے پہنچے؟

سوال:

اگر جابر بن عبداللہ انصاری نابینا تھے تو وہ اربعین کے موقع پر کربلا کیسے پہنچے؟

جواب:

جابر بن عبداللہ انصاری رسولِ خدا ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ وہ ان اولین افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے واقعۂ عاشورا کے بعد امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کی قبور کی زیارت کی۔ اسی وجہ سے اربعینِ حسینی کا نام جابر بن عبداللہ انصاری کے ساتھ خاص طور پر منسلک ہے۔

البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اربعین کے موقع پر جب جابر کربلا پہنچے تو کیا وہ نابینا تھے یا ان کی بینائی موجود تھی؟

جابر کے نابینا ہونے کا خیال زیادہ تر اس واقعے کی بعض عبارتوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً جب جابر امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے ساتھی عطیہ عوفی سے فرمایا:

«أَلْمِسْنِيهِ»

یعنی: “میرا ہاتھ قبر تک پہنچاؤ۔” (1)

اسی طرح زیارت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عطیہ سے فرمایا:

«خُذُوا بِي نَحْوَ أَبْيَاتِ كُوفَانَ»

یعنی: “مجھے کوفہ کے گھروں کی طرف لے چلو۔” (2)

ان الفاظ سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جابر نابینا تھے اور انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت تھی۔ لیکن اس بارے میں چند اہم نکات قابلِ غور ہیں۔

جابر کے نابینا ہونے کے بارے میں چند اہم نکات

پہلا نکتہ:

اس واقعے کے راوی عطیہ عوفی ہیں، لیکن انہوں نے کہیں بھی واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ جابر نابینا تھے۔

بلکہ اسی واقعے میں ایک ایسی عبارت بھی موجود ہے جو جابر کی بینائی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عطیہ بیان کرتے ہیں:

«ثُمَّ جَالَ بَصَرُهُ حَوْلَ الْقَبْرِ» (3)

یعنی:

“پھر جابر نے اپنی نگاہ قبر کے اردگرد دوڑائی۔”

اگر جابر مکمل طور پر نابینا ہوتے تو ان کا قبر کے اردگرد دیکھنا قابلِ توجہ بات ہوتی۔

دوسرا نکتہ:

اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ جابر اس وقت مکمل طور پر نابینا تھے، تب بھی ان کے لیے کربلا پہنچنا کوئی مشکل بات نہیں تھی؛ کیونکہ وہ اکیلے سفر نہیں کر رہے تھے بلکہ عطیہ عوفی ان کے ساتھ تھے۔ لہٰذا نابینائی کی صورت میں بھی عطیہ ان کی مدد کر سکتے تھے۔

تیسرا نکتہ:

ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جابر، امام باقر علیہ السلام سے ملاقات کے وقت بینا تھے۔

اس روایت میں جابر بن یزید بیان کرتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔ اسی دوران امام محمد باقر علیہ السلام، جو اس وقت ایک کم عمر بچے تھے، وہاں تشریف لائے۔

جب جابر نے انہیں دیکھا تو غور سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر انہوں نے امام باقر علیہ السلام کو اپنے قریب بلایا اور مختلف انداز سے دیکھا۔ اس کے بعد جابر نے فرمایا:

“ربِّ کعبہ کی قسم! اس بچے کے نقوش و شمائل رسولِ خدا ﷺ جیسے ہیں۔” (4)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جابر امام باقر علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور ان کے حلیے کو رسولِ خدا ﷺ کے حلیے سے مشابہ قرار دے رہے تھے۔

یہ ملاقات واقعۂ کربلا کے بعد ہوئی تھی، اس لیے اس سے یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ جابر اربعین کے زمانے میں نابینا نہیں تھے۔

چوتھا نکتہ:

تاریخی روایات کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری کا انتقال 77 ہجری میں ہوا، جبکہ بعض روایات میں 74 ہجری بھی بیان ہوئی ہے۔ یعنی وہ واقعۂ کربلا کے بعد کم از کم تیرہ سال تک زندہ رہے۔ (5)

بعض تاریخی روایات میں ان کے زندگی کے آخری دور میں نابینا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ (6)

اس بنا پر یہ احتمال زیادہ مضبوط معلوم ہوتا ہے کہ 61 ہجری میں جب جابر اربعین کے موقع پر کربلا آئے، اس وقت وہ مکمل طور پر نابینا نہیں ہوئے تھے۔

پانچواں نکتہ:

ایک روایت میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے جابر سے فرمایا تھا کہ:

“تم نابینا ہو جاؤ گے، لیکن پھر تمہیں دوبارہ بینائی حاصل ہو جائے گی۔” (7)

اگر اس روایت کو درست مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جابر کی زندگی کے آخری دور میں کسی وقت ان کی بینائی چلی گئی تھی اور بعد میں دوبارہ واپس آ گئی۔

چونکہ جابر کے نابینا ہونے کا صحیح وقت واضح طور پر معلوم نہیں، اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے ملاقات کے وقت ان کی بینائی دوبارہ لوٹ آئی ہو۔

نتیجہ

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری یقینی طور پر اربعین کے موقع پر نابینا تھے۔

زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ جابر کی نابینائی ان کی زندگی کے آخری دور میں ہوئی تھی اور 61 ہجری میں، جب وہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے کربلا پہنچے، اس وقت وہ مکمل طور پر نابینا نہیں تھے۔

اس کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ عطیہ عوفی کی روایت میں جابر کے بارے میں ذکر ہے کہ انہوں نے قبر کے اردگرد اپنی نگاہ دوڑائی۔ اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ ان کی ملاقات کی روایت بھی ان کی بینائی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ جابر اس وقت نابینا تھے، تب بھی کربلا پہنچنا مشکل نہیں تھا، کیونکہ وہ اکیلے نہیں بلکہ عطیہ عوفی کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

لہٰذا جابر کا اربعین کے موقع پر کربلا پہنچنا ان کے نابینا ہونے کے ساتھ کسی صورت میں متناقض نہیں ہے۔

منابع

1. طبری آملی، عمادالدین أبی جعفر محمد بن أبی القاسم، بشاره المصطفی، نجف، المکتبه الحیدریه، چاپ دوم، 1383 ق‏، ص74.

2. طبری آملی، عمادالدین أبی جعفر محمد بن أبی القاسم، بشاره المصطفی، نجف، المکتبه الحیدریه، چاپ دوم، 1383 ق، ص75.

3. طبری آملی، عمادالدین أبی جعفر محمد بن أبی القاسم، بشاره المصطفی، نجف، المکتبه الحیدریه، چاپ دوم، 1383 ق، ص74.

4. کلینی، محمد بن ابی یعقوب، الکافی، تحقیق غفارى على­اکبر و آخوندى، محمد، تهران، دارالکتب الإسلامیه، چاپ چهارم، 1407 ق‏، ج1، صص 470.

5. ابن اثیر، عز الدین بن الأثیر ابوالحسن على بن محمد الجزرى، أسد الغابه فى معرفه الصحابه، بیروت، دارالفکر، 1409/1989، ج 1، ص308، شماره 647.

6. صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمه، تحقیق غفارى، على­اکبر، تهران، نشر اسلامیه، چاپ دوم، 1395 ق، ج1، ص254.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top