رسول اللہ ﷺ بعثت سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتے تھے؟ | اُمّی ہونے کی حقیقت
کیا رسولِ اکرم ﷺ بعثت سے پہلے یا بعد میں پڑھنا لکھنا جانتے تھے؟
سوال
کیا حضرت محمد ﷺ بعثت سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتے تھے؟ اور کیا بعثت کے بعد آپ ﷺ کو پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت حاصل ہوئی تھی؟
جواب
رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کے پڑھنے لکھنے کے بارے میں علماء اور مفسرین کے درمیان تفصیلی بحث پائی جاتی ہے۔ اس مسئلے کا تعلق خاص طور پر “اُمّی” ہونے، قرآن مجید کے اعجاز اور نبوتِ رسول ﷺ کے دلائل سے ہے۔
تاریخی اور روایتی شواہد کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے کسی استاد یا مکتب سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا اور آپ ﷺ نے عام انسانی طریقے سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ تاہم، بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسی علمی صلاحیتیں عطا فرمائیں جن میں پڑھنے اور لکھنے کی قدرت بھی شامل تھی۔ اس بارے میں شیعہ اور اہلِ سنت دونوں کے مصادر میں مختلف روایات اور شواہد موجود ہیں۔
1۔ بعثت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تحریر کی حالت
بعثت سے پہلے مکہ کے معاشرے میں پڑھنے لکھنے والے افراد بہت کم تھے۔ ایسے ماحول میں اگر رسول اللہ ﷺ نے کسی استاد سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہوتی تو یہ بات لوگوں میں مشہور ہوجاتی۔
لیکن تاریخ میں ایسا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا کہ آپ ﷺ نے کسی استاد سے پڑھنا لکھنا سیکھا ہو۔ یہی بات آپ ﷺ کے “اُمّی” ہونے کے مفہوم کو سمجھنے میں بھی اہم ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
“اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، ورنہ باطل پرست لوگ شک میں پڑ جاتے۔”
(سورۂ عنکبوت، آیت 48)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ کسی کتاب کو پڑھنے اور اپنے ہاتھ سے لکھنے کے معمول میں نہیں تھے۔
قرآن کے اعجاز سے تعلق
رسول اللہ ﷺ کے بعثت سے پہلے باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کی ایک اہم حکمت یہ بھی تھی کہ مخالفین یہ الزام نہ لگا سکیں کہ آپ ﷺ نے قرآن مجید کو کسی سابقہ کتاب سے سیکھا یا کسی انسان سے اس کی تعلیم حاصل کی ہے۔
امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی صداقت کے دلائل میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ آپ ﷺ نے کسی استاد سے تعلیم حاصل نہیں کی، اس کے باوجود آپ ﷺ ایسی کتاب لے کر آئے جس میں گزشتہ اور آئندہ کے واقعات اور علوم بیان ہوئے ہیں۔
حوالہ: شیخ صدوق، التوحید، ص 429۔
2۔ بعثت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی علمی صلاحیت
بعثت کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پڑھنے لکھنے کے بارے میں علماء کے درمیان مختلف آراء ملتی ہیں۔
بعض علماء نے “اُمّی” ہونے کو پوری زندگی پڑھنے لکھنے سے ناواقف ہونے کے معنی میں لیا ہے، جبکہ بہت سے شیعہ علماء اور بعض اہلِ سنت علماء کے نزدیک بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو پڑھنے اور لکھنے کی قدرت عطا فرمائی۔
یہ صلاحیت عام انسانی تعلیم کے ذریعے حاصل نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور نبوت کے مقام سے متعلق ایک خصوصی کرامت تھی۔
3۔ لفظ “اُمّی” کا مطلب کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید میں “اُمّی” کہا گیا ہے۔ عام طور پر اس لفظ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی انسان سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔
امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے منقول روایت میں “اُمّی” کی ایک اور وضاحت ملتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اس لیے “اُمّی” کہا گیا کیونکہ آپ ﷺ لکھنا نہیں جانتے تھے، حالانکہ اس روایت کے مطابق آپ ﷺ پڑھتے اور لکھتے تھے۔ “اُمّی” کہنے کی وجہ مکہ مکرمہ سے نسبت بھی بیان کی گئی ہے، کیونکہ مکہ کو اُمّ القریٰ کہا جاتا ہے۔
حوالہ: شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص 53-54۔
4۔ کیا رسول اللہ ﷺ بعثت کے بعد خود لکھتے تھے؟
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بہت سے مواقع پر کاتبین وحی اور دوسرے کاتب صحابہ تحریر کیا کرتے تھے۔ لیکن کاتبین کا موجود ہونا اس بات کی قطعی نفی نہیں کرتا کہ رسول اللہ ﷺ خود لکھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے۔
شیعہ روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھتے اور لکھتے تھے۔
ایک دوسری روایت میں بھی رسول اللہ ﷺ کے تحریر کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
حوالہ: محمد بن حسن صفار، بصائر الدرجات، ص 227؛ محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج 1، ص 249۔
5۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے سلسلے میں صلح حدیبیہ کا واقعہ بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
صحیح بخاری میں صلح حدیبیہ کے معاہدے کے واقعے کے ضمن میں ذکر ہے کہ جب معاہدے میں “رسول اللہ” کے الفاظ لکھنے پر قریش کی طرف سے اعتراض ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے تحریری دستاویز کے سلسلے میں خود مداخلت فرمائی۔
اسی واقعے کو بعض علماء نے اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ بعثت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو لکھنے کی قدرت حاصل تھی۔
حوالہ: صحیح البخاری، ج 3، ص 184۔
6۔ کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس ہر علم تھا؟
رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور انسانیت کے معلم تھے۔ اسلامی روایات میں آپ ﷺ کے وسیع علم اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علوم کا ذکر ملتا ہے۔
اس بنا پر بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ کا علم صرف ان علوم تک محدود نہیں تھا جو عام انسانوں نے اپنے اساتذہ سے حاصل کیے ہوں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خصوصی علم عطا فرمایا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بعثت کے بعد آپ ﷺ کے پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کو عام انسانی تعلیم کے نتیجے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا اور نبوت کی خصوصیات کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
نتیجہ
تاریخی، قرآنی اور روایتی شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
بعثت سے پہلے رسول اکرم ﷺ نے کسی استاد یا مکتب سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا اور آپ ﷺ عام انسانی طریقے سے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ قرآن مجید بھی سورۂ عنکبوت کی آیت 48 میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
البتہ بعثت کے بعد بعض شیعہ روایات اور متعدد علماء کی آراء کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ صلح حدیبیہ اور بعض دیگر روایات کو اس موقف کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔
اس طرح “اُمّی” ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ علم و معرفت سے محروم تھے۔ اس کے برعکس، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور انسانیت کے معلم تھے، اور آپ ﷺ کا علم عام انسانی تعلیم کے ذرائع تک محدود نہیں تھا۔
اہم بات
رسول اللہ ﷺ کا بعثت سے پہلے کسی انسان سے تعلیم حاصل نہ کرنا قرآن مجید کے اعجاز اور آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید آپ ﷺ پر نازل ہوا، جبکہ آپ ﷺ نے اسے کسی سابقہ کتاب سے پڑھ کر نقل نہیں کیا تھا۔
حوالہ جات
مطہری، مرتضیٰ، پیامبر امی، تہران، صدرا، 1381ش، ص 9-10۔
شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، قم، جامعۂ مدرسین، 1398ش، ص 429۔
علامہ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج 16، ص 135۔
شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1403ھ، ص 53-54۔
قرطبی، شمس الدین، تفسیر القرطبی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1405ھ، ج 13، ص 352۔
صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد، قم، 1404ھ، ص 227۔
کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ج 1، ص 249۔
بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، ج 3، ص 184۔
سیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، ج 3، ص 574۔
ابن سعد، محمد، الطبقات الکبریٰ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ج 2، ص 187۔