حضرت علیؑ کی موجودگی میں حضرت فاطمہؑ دروازے پر کیوں گئیں؟
حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دروازے پر کیوں گئیں؟
سوال
جب حضرت علی علیہ السلام گھر میں موجود تھے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دروازے کی طرف کیوں گئیں؟ کیا حضرت علی علیہ السلام خود دروازہ نہیں کھول سکتے تھے؟ تاریخی روایات کی روشنی میں اس سوال کی وضاحت کریں۔
جواب
یہ سوال واقعۂ ہجومِ خانۂ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق ہے۔ اس موضوع پر بعض تاریخی روایات میں بیان ہوا ہے کہ جب عمر بن خطاب اور ان کے ساتھ آنے والے افراد حضرت علی علیہ السلام کے گھر پہنچے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دروازے کے قریب موجود تھیں۔ ان روایات کے مطابق، آپ نے آنے والوں کو دیکھ کر دروازہ بند کر دیا۔
اس واقعے کے بارے میں شیخ مفید کی کتاب الاختصاص، تفسیر عیاشی اور علامہ مجلسی کی بحار الانوار میں روایات نقل ہوئی ہیں۔ ان روایات کی روشنی میں سوال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
1۔ کیا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خود دروازہ کھولنے گئی تھیں؟
تفسیر عیاشی میں نقل ہونے والی ایک روایت کے مطابق، عمر بن خطاب بعض افراد کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے گھر کی طرف گئے۔ جب وہ دروازے پر پہنچے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے انہیں دیکھ کر دروازہ بند کر دیا۔ اس روایت میں آگے دروازے پر پیش آنے والے واقعے اور حضرت علی علیہ السلام کو گھر سے باہر لائے جانے کا ذکر بھی ہے۔
اس روایت کا حوالہ درج ذیل ہے:
عیاشی، تفسیر العیاشی، جلد 2، صفحہ 67۔
شیخ مفید، الاختصاص، صفحہ 186۔
علامہ مجلسی، بحار الانوار، جلد 28، صفحہ 227۔
ان روایات میں بیان کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا دروازے کے قریب ہونا اور آنے والوں کو دیکھ کر دروازہ بند کرنا، دروازہ کھول کر انہیں اندر بلانے سے مختلف صورت ہے۔
2۔ کتاب سلیم بن قیس کی روایت
کتاب سلیم بن قیس میں نقل ہونے والی ایک روایت کے مطابق، عمر بن خطاب حضرت علی علیہ السلام کے گھر پہنچے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دروازے کے پیچھے موجود تھیں۔ روایت میں آپ کی جسمانی کمزوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے غم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
روایت کے مطابق، عمر بن خطاب نے حضرت علی علیہ السلام سے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور دروازہ نہ کھولنے کی صورت میں اسے آگ لگانے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد دروازے کو آگ لگانے اور گھر میں داخل ہونے کا بیان ملتا ہے۔
اس روایت کا حوالہ:
سلیم بن قیس ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، صفحہ 864، تحقیق: محمد باقر انصاری، قم، انتشارات ہادی، 1405 ہجری قمری۔
علمی وضاحت: مذکورہ روایت کتاب سلیم بن قیس سے منقول ہے۔ کسی روایت کے تاریخی استدلال میں استعمال سے پہلے اس کے اصل متن، سند اور متعلقہ علمی تحقیقات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
3۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت کی اہمیت
اس واقعے کے سلسلے میں قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جن میں دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو، جب تک کہ وہاں کے رہنے والوں سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کر لو۔
حوالہ: سورۂ نور، آیت 27۔
اگلی آیت میں بھی اجازت نہ ملنے کی صورت میں واپس جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حوالہ: سورۂ نور، آیت 28۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں گھروں کی حرمت اور اہلِ خانہ کی اجازت کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس اصول کو زیرِ بحث تاریخی واقعے کے اخلاقی اور دینی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
4۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کا مقام
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کی فضیلت کے سلسلے میں سورۂ نور کی آیت 36 بھی پیش کی جاتی ہے، جس میں ان گھروں کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور جن میں اس کا نام یاد کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ
ترجمہ: ان گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند مرتبہ دیا جائے اور ان میں اس کا نام یاد کیا جائے۔
حوالہ: سورۂ نور، آیت 36۔
اس آیت کے ذیل میں بعض تفسیری مصادر میں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے فضائل سے متعلق روایات نقل ہوئی ہیں۔ ان میں جلال الدین سیوطی کی الدر المنثور اور ثعلبی کی الکشف والبیان شامل ہیں۔
تفصیلی حوالہ جات:
سیوطی، الدر المنثور، جلد 6، صفحہ 203۔
ثعلبی، الکشف والبیان، جلد 7، صفحہ 107۔
ثعالبی، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، جلد 7، صفحہ 107۔
آلوسی، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، جلد 18، صفحہ 174۔
اسی طرح سورۂ احزاب کی آیت 53 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان ہوئے ہیں۔
حوالہ: سورۂ احزاب، آیت 53۔
5۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فریاد اور تاریخی روایات
کتاب الامامۃ والسیاسۃ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آواز اور گریہ سن کر وہاں موجود بعض افراد واپس چلے گئے، جبکہ کچھ افراد وہیں موجود رہے۔
اس روایت کو واقعے کے پس منظر اور اس وقت پیش آنے والی صورتِ حال کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔
حوالہ:
ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ والسیاسۃ، تحقیق: خلیل المنصور، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1418 ہجری قمری، جلد 1، صفحہ 16۔ دوسرے محققین کے نسخوں میں صفحہ نمبر مختلف ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دروازے کے قریب ہونے کے سوال کا جواب زیرِ بحث تاریخی روایات میں ملتا ہے۔ ان روایات کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دروازے کے قریب موجود تھیں اور آنے والوں کو دیکھ کر دروازہ بند کر دیا تھا۔ لہٰذا ان روایات کو اس طرح بیان کرنا درست نہیں کہ آپ لازماً دروازہ کھول کر آنے والوں کا استقبال کرنے گئی تھیں۔
اس واقعے کے مطالعے میں قرآن مجید کی تعلیمات، گھر کی حرمت اور تاریخی روایات کے اصل متن کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مختلف مصادر میں نقل ہونے والی روایات کا تقابلی جائزہ اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اصل ماخذ
یہ مضمون مؤسسۂ تحقیقاتی ولی عصر کے درج ذیل مضمون کی بنیاد پر ازسرِنو مرتب کیا گیا ہے:
حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیوں دروازے پر گئیں؟ — اصل مضمون